صحت مند نوجوانوں میں بانجھ پن کیوں بڑھ رہا ہے؟ اصل وجوہات اور مکمل طبی رہنمائی

"نوجوانوں میں بانجھ پن کی وجوہات، مردانہ بانجھ پن، سپرم کی کمی، ٹیسٹوسٹیران اور ہارمونل اثرات، غلط طرزِ زندگی، سموکنگ، الکوحل، ورزش اور درجہ حرارت کے اثرات"

  نوجوانوں میں بانجھ پن کی وجوہات کیا وجہ ھے کہ اچھے خاصے صحت مند نوجوان بانجھ پن کا شکار ھو رھے ھیں آئیں اس پر غور کرتے ہیں یہ ایک بھت ھی منفرد اور تحقیقی پوسٹ ھے انسانی جسم کے اھم ترین اعضاء دل اور جگر ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پسلیوں کے … Read more

کیا شوگر ریورس ہو سکتی ہے؟ ہائی کاربوہائیڈریٹ غذا، وزن اور لائف اسٹائل کی مکمل حقیقت

کیا شوگر ریورس ہو سکتی ہے؟ شوگر ٹیسٹ مشین، دل کی شکل میں چینی اور ذیابیطس کنٹرول کی علامتی تصویر

کیا  شوگر ریورس ہو سکتی ہے؟

 

‎ ہم سالہا سال باقاعدگی سے بلا ناغہ دن میں تین وقت اہتمام کے ساتھ روٹی چاول  اور بلا شمار سنیکس لیتے رہتے ہیں۔ یہ سب مرکزی طور پر ہائی کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔

‎حلوہ پوری ،روٹیاں ،پراٹھے، بسکٹ ،سموسے، جلیبیاں، چینی والی چائے اور دودھ ، سردیوں میں حلوے، مٹھاس سے بھرپور پنجیریاں ،شہد میں ترتراتے ڈرائی فروٹ یہ سب ہماری دانست میں بہت ہیلتھی چیزیں ہیں۔

‎یہی ہائی کاربوہائیڈریٹ ڈائٹ جب ضرورت سے زیادہ کیلوریز دیتی ہے جو ہم برن بھی نہیں کرتے تو خون میں چکنائی، کولیسٹرول ، شوگر سب کچھ ہی بڑھاتی ہیں۔ جگر پر چربی کی تہہ چڑھ جاتی ہے۔ جگر جس نے پورے جسم کے زہریلے مادے پراسیس کر کے جسم سے نکالنے ہیں وہی جگر اپنی افادیت کھونے لگتا ہے۔

‎ہمارے زیادہ تر امراض کی جڑ ہائی کاربوہائیڈریٹ ڈائٹ کھانا اور اس کو برن نہ کرنا ہے۔

‎بس سارا سارا دن پراٹھے کھانے کے بعد ارام کرتے رہتے ہیں انٹرنیٹ استعمال کرتے رہتے ہیں موبائل کے اوپر گیمیں کھیلتے رہتے ہیں فزیکل ایکٹیوٹیز ہم بالکل نہیں کرتے

‎معدہ ایک غبارے کی طرح ہے۔ جتنا زیادہ کھاتے جائیں گے یہ اتنا پھیلتا جائے گا۔ جب پھیل جائے گا تو اسے بھرنے کے لئے زیادہ کھانا درکار ہو گا۔اور زیادہ کھانا زیادہ کیلوریز لائے گا جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہیں اور جب ہم نے برن ہی نہیں کرنی تو چربی کی تہہ پر تہہ چڑھتی چلی جائے گا۔

‎اب یہاں انسولین ریززٹنس کی بات ہونی چاہیے لیکن اسے ایک الگ پوسٹ میں انشاء اللہ لکھوں گا۔ ورنہ یہ پوسٹ بہت لمبی ہو جائے گی۔

‎جب ہمارے اعضاء چربی سے ڈھکتے جاتے ہیں تو انکا کام متاثر ہونے لگتا یے۔ ہمارے پینکریاز پر بھی چربی چڑھ جاتی ہے وہ گلوکوز میٹابولزم کے لئے درکار انسولین صحیح سے فراہم نہیں کر پاتا۔  انسولین کی ڈیمانڈ زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ ہمارا حدود اربعہ بہت بڑھ گیا ہے پھر بہت زیادہ ورک لوڈ کی وجہ سے لبلبہ یا پینکریاز اپنے ہی سیلز کی تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے۔

‎اب اس سچویشن میں جب ہم ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں تو ہونا تو یہ چاہئے کہ میڈیسن سے پہلے ڈاکٹر وزن کم کرنے کا کہے۔ وزن کم۔ہو گا تو لبلبے پر بوجھ کم ہو گا ۔ جتنا اسے ریلیف ملے گا اس کے ری سٹور ہونے کے چانسسز زیادہ ہیں۔ لیکن یہ کام جلدی ہی کرنا ہوتا ہے۔ ایک بار پینکریاز کے زیادہ سیل خراب ہو گئے تو انکو ریورس کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

‎اب ڈاکٹر کیسے کہے کہ وزن کم کرو۔

‎وزن کم کرنے کے لئے ہائی کاربوہائیڈریٹ چھوڑنے ہوں گے۔ چینی چھوڑنی ہو۔ صرف غذائیت والی چیزیں کھانی ہوں گی۔ وہ چیزیں کھانی ہوں گی جو بلڈ گلوکوز کو بار بار سپائیک نہ دیں لیکن جسم کو مستقل انرجی دیتی رہیں۔

‎ریفائنڈ سفید آ ٹا غذائیت سے محروم اور کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور ہوتا ہے۔ ہمیں تو پوریاں ، سفید آ ٹے کے پراٹھے کھانے ہیں۔

‎مکمل اناج کی روٹی تو نگلنی مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی حال سفید چاول کا ہے۔

‎ہمارے بچپن میں دیہات میں گھروں میں بڑی بڑی پتھر کی چکیاں رکھی ہوتی تھیں ۔ان چکیوں میں حسب ضرورت گندم پیس کر اس کی روٹی بنائی جاتی۔ یہ روٹی غذائیت کے اعتبار سے اچھی تھی کیونکہ اس میں فائبر اور گندم کی ساری غذائیت موجود ہوتی تھی۔

‎چھلکا آ ٹے کی شیلف لائف کم کرتا ہے لہزا الٹرا ریفائنڈ آ ٹے میں سے وہ اجزاء نکال لئے جاتے ہیں جو شیلف لائف کو کم کرتے ہیں لیکن وہ اجزاء تو ہمارے کام کے تھے ۔

‎اب ڈاکٹر کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ یہ ساری بحث آ پ سے کرے۔ ہم تو روٹی چاول کا نام سنتے ہی دفاعی موڈ میں چلے جاتے ہیں۔ جو یہ کہتا ہے کھل کر فیصلہ صادر کرتے ہیں بکواس کر رہا ہے۔

‎اب کچھ لوگ جو بزنس اینڈ مارکیٹنگ مائنڈ سیٹ کے ہیں وہ آ پکی شوگر ریورس کروانے کے لئے مہنگے کورس کروائیں گے یا کوئی ایسی پروڈکٹ بیچیں گے جو کھا کر  یا پی کر آ پکے جملہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

اگر اپ بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا شوگر ریورس ہو سکتی ہے تو یقینا اپ یہ کر سکتے ہیں ۔

‎اگر ڈاکٹر نے شوگر کی میڈیسن لکھ دی ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ اب جنم جنم کا ساتھ ہو گیا ہے۔ پہلے ایک گولی ، پھر دو گولی اور آہستہ آہستہ آ گے سے آ گے۔

‎پہلی بات شام کو ڈنر جلدی کر لیں۔ انسولین ہارمون دن کے وقت کام کرتا ہے رات کو آرام کرتا ہے۔ اس کے آ رام کے وقت میں کھا کھا کر اس کو بار بار بلا کر اسے نہ تھکائیں۔ صبح ناشتہ نہ کریں ۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کریں یعنی کھانے کی ایک ونڈو رکھیں بس اسی میں کھائیں۔ جسم کے ہارمون سسٹم اور جگر کو آ رام کر کے تازہ دم ہونے کا موقع دیں۔

لو کاربوہائیڈریٹ ڈائٹ لیں۔

‎ابلے انڈے کا گلائسیمک انڈیکس زیرو اور آ ٹے کا ستر کے قریب ہے۔ جو چیز بھی کھانی ہے گوگل پر اس کا گلائسیمک انڈیکس چیک کر لیں۔ آ پکو کم کارب والی چیزیں کھانی ہیں۔ روٹی اگر کھانی ہے تو مکمل اناج والی اور چھوٹی ہو۔ ہر کھانے میں فائبر کی موجودگی لازمی بنائیں ۔فائبر سبزیوں ، پھلوں ، اناج کے چھلکے وغیرہ میں ہوتا ہے۔

‎شوگر کی میڈیسن اکثر آ پکی بھوک کم کرتی ہے اس کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں۔ عادتا تین وقت کھانا کھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جتنی بھوک ہے اتنا ہی کھائیں۔ یہ میڈیسن آ پ کا وزن بھی کم کرتی ہے کیونکہ آ پ کو بھوک کم لگ رہی ہے تو آ پ سنیکنگ بھی کم کر دیتے ہیں ۔ کوشش کریں کہ اپنی غذائی عادات کو تبدیل کر کے میڈیسن کی مدد سے وزن بھی کم کر لیں اور گلوکوز لیول بھی ٹھیک رکھیں۔

‎جب آپ اپنا سسٹم ٹھیک کر لیں گے تو ڈاکٹر کے مشورے سے میڈیسن چھوڑنے کی ہدایات لیں۔ اگر بلڈ پروفائل ٹھیک کر لیتے ہیں تو میڈیسن چھوڑی جا سکتی ہے ڈاکٹر کے زیر نگرانی۔

‎ہمارے ہاں بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ شوگر میڈیسن کو آزادی کا پروانہ سمجھا جاتا ہے ۔ سب کچھ کھاؤ کیونکہ دوائی تو کھا ہی لینی ہے ۔ دوائی خود ہی سنبھالے گی ہمارے ہائی کارب ان ٹیک کو۔

‎جی نہیں یہی کرتے رہے تو دوائی بے چاری کتنا کنٹرول کر لے گی اس کی ڈوز بڑھنی شروع ہو جائے گی۔

‎تو آ پ نے اپنا ٹارگٹ یہ رکھنا ہے کہ اپنی غذا تبدیل کر کے میڈیسن کی سپورٹ کے ساتھ اپنے معاملات درست کرنے ہیں۔

‎جو لوگ کہتے ہیں پندرہ دن میں ہماری دوائی چھوٹ گئی۔ وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ کسی بھی غذائی تبدیلی اور میڈیسن کا اثر معلوم کرنے کے لئے تین ماہ کا وقت دیا جاتا ہے پھر چیک کیا جاتا ہے کہ کیا تبدیلی آ ئی۔

‎یہ سارا کام ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا ہے اور اس کو بتانا ہے کہ آپکا یہ ارادہ ہے تا کہ وہ آ پکی مدد کرے۔

‎ورنہ ڈاکٹر کا کام ہے دوائی لکھنا ۔ آ پ کو خود کوشش بھی کرنی ہو گی اور اس کوشش میں مدد مانگنی ہو گی۔

‎اب یہ نہیں کہ تین مہینے لگا کر سب کچھ ٹھیک کیا اور پھر دوبارہ سے پرانی عادتوں پر آ گئے۔

‎تو پھر اپ خود سوچیں کیا شوگر ریورس ہو سکتی ہے

‎لائف سٹائل چینج کا مطلب ہے کہ لائف سٹائل اب پہلے والا نہیں کرنا۔ سیلز کی ایک یادداشت ہوتی ہے وہ اتنی جلدی نہیں بھولتے کہ آ پ موٹے تھے۔ سب چیزیں اتنی جلدی ریورس نہیں ہو جاتیں ۔ دو سے آ ٹھ سال تک تو بالکل اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔

‎اس کے بعد ——–

‎اس کے بعد آ پکو ہیلتھی ایٹنگ کی عادت ہو جائے گی۔😊

 

مزید یہ بھی پڑھیں 👇👇👇

“گندم اور شوگر: صحت مند زندگی کے لیے سچائی اور تحقیق”

Read more

ٹیسٹوسٹیرون اور جدید مرد: کمزوری کی اصل وجہ طرزِ زندگی

فیوچری رنگین بیک گراؤنڈ پر بڑی سفید انگریزی تحریر "TESTOSTERONE"؛ بائیں طرف مردانہ مسکل سِلُوئٹ، پس منظر میں چمکتا ہوا ڈی این اے ہیلکس، ECG لائن اور روشنی کے ذرات—مضبوطی اور ہارمونل صحت کی علامت۔

  ٹیسٹوسٹیرون لیول اور جدید طرزِ زندگی فہرست اصل تحریر اضافی معلومات بیرونی لنک اصل آرٹیکل ایک حالیہ تحقیق نے صاف دکھا دیا ہے کہ آج کا 30 سالہ مرد وہ ٹیسٹوسٹیرون رکھتا ہے جو 40 سال پہلے ایک 50 سالہ مرد کا لیول ہوا کرتا تھا۔ یعنی عمر کم، مگر طاقت… آدھی۔ اور ہم … Read more

10 Powerful Facts About Blood Cancer You Must Know

“Illustration of blood cells representing Blood Cancer awareness with educational title ‘10 Powerful Facts About Blood Cancer’.”

    What Is Blood Cancer? — A Clear & Informative Article This article explains blood cancer (Blood Cancer) in simple language — its types, symptoms, diagnosis, treatment and supportive information. This is an educational resource and does not replace medical advice. If you suspect any symptoms related to blood cancer (Blood Cancer), please consult … Read more

بلڈ کینسر کیا ہے؟ علامات، وجوہات اور علاج

"بلڈ کینسر کے خلیات، انسانی جسم کی عکاسی اور علاج کی علامات دکھاتی طبی تصویر"

 

 

بلڈ کینسر کیا ہے؟ مکمل اور عام فہم معلوماتی مضمون

یہ مضمون بلڈ کینسر کے بارے میں بنیادی معلومات، اقسام، علامات، تشخیص، علاج اور احتیاطی تجاویز پر مبنی ہے۔

 

بلڈ کینسر کیا ہے؟

بلڈ کینسر آج کے دور کی اُن پیچیدہ بیماریوں میں شمار ہوتا ہے جو نہ صرف جسمانی کمزوری اور درد کا سبب بنتا ہے بلکہ مریض اور اس کے اہلِ خانہ کو ذہنی پریشانی میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ مرض عام طور پر خون، بون میرو اور لمف سسٹم کو متاثر کرتا ہے۔ انسان کے جسم میں خون مسلسل بنتا رہتا ہے جو سرخ خون کے خلیات، سفید خون کے خلیات اور پلیٹ لیٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب ان خلیوں کی افزائش غیر معمولی طریقے سے ہونے لگے اور صحت مند خلیوں کی جگہ خراب خلیے بننے لگیں تو اس حالت کو بلڈ کینسر کہا جاتا ہے۔

یہ کیسے بنتا ہے؟

بون میرو میں نئے خلیات کا بننا ایک قدرتی عمل ہے۔ لیکن جب یہی خلیات اچانک تیزی سے بڑھنے لگیں اور جسم کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچائیں تو یہ کینسر سیلز کہلاتے ہیں۔ ایسے خلیات عام خلیوں کی جگہ لے لیتے ہیں جس سے جسم کا دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے، اور مریض بار بار انفیکشن اور بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔

بلڈ کینسر کی اقسام

بلڈ کینسر بنیادی طور پر تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

  • لیوکیمیا: اس میں سفید خون کے خلیات کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے اور یہ حفاظتی نظام کو کمزور کر دیتے ہیں۔
  • لمفوما: یہ مرض لمف نوڈز اور لمف سسٹم کو متاثر کرتا ہے جو ہمارے جسم کو جراثیم سے بچاتا ہے۔
  • مائیلوما: یہ پلازما سیلز کو متاثر کرتا ہے اور مدافعتی نظام کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔

Read more