کیا انسان کا مزاج تبدیل ہو جاتا ہے ؟
عام لوگ اپنا مزاج کیسے جانیں۔
بنیادی طور پر تین حکمران جسم انسانی و حیوانی پر حکومت کرتے ہیں۔ دل دماغ اور جگر
چلتے چلتے یہ تزکرہ بھی ہو ہی جاۓ کہ قدیم یونانی طب اور جدید طب میں فرق کیا ہے دراصل قدیم طب جسم انسانی میں تین کے بجاۓ چار بنیادی عناصر مانتی ہے یعنی آگ مٹی ہوا اور پانی اور اسی طرح چار اخلاط کو بنیادی اخلاط مانتی ہے یعنی سودا صفرا۶ بلغم اور دم یعنی خون۔
جبکہ جدید طب صابر کا نظریہ تین اخلاط پر مشتمل ہے سودا۶ صفرا۶ اور بلغم جبکہ خون کو انہیں تین اخلاط کا مجموعہ تسلیم کیا گیا ہے۔
اسکی دلیل یہ دی گیٸ ہے کہ بلغم کا مرکز دماغ ہے۔
سودا کا مرکز دل ہے اور
صفرا۶ کا مرکز جگر ہے،
جبکہ خون کا مرکز کوٸ نہیں یہ تو طب صابر اخلاط ثلاثہ ہے جبکہ اسی طب صابر میں سے ایک نیا نظریہ نکلا جوکہ اخلاط اربعہ پر مشتمل ہے وہ لوگ اعضا۶ رئیسہ میں تلی کو بھی شامل کرتے ہیں جبکہ میرے خیال کے مطابق یہ غلط ہے کیوں کہ اعضا۶ ر ئیسہ کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔
دماغ کے بغیر چند منٹ بھی نہیں ژندہ رہا جا سکتا دل کے بغیر بھی اور جگر کے بغیر بھی زندگی ممکن نہیں، جبکہ بہت سے لوگوں کی تلی نکال دی جاتی ہے اور لوگ زندہ ہیں تلی کے بغیر
تو صاحبو اب میں جو بات کروں گا وہ قانون مفرد اعضا۶ طب صابر کے مطابق ہوگی۔
بنیادی طور پر تین ہی مزاج ہوتے ہیں بلغمی سوداوی اور صفراوی ۔
بلغمی مزاج میں بلغم زیادہ ہوتا
سوداوی میں سودا۶
صفراوی میں صفرا۶ زیادہ ہوتا ہے
قانون فطرت کو دیکھیں تو ہمیں مزاج سمجھنے میں مدد ملے گی بنیادی طور پر تین موسم ہوتے ہیں
سردی گرمی اور برسات اب یہ موسم جسطرح آزاد موسم نہیں ہوتا سردی تری ہوتی ہے یا سردی خشکی ہوتی ہے اسی طرح گرمی تری ہوتی ہے یا گرمی خشکی اور برسات بھی اسی طرح ہوتی ہے تر گرم موسم اور تر سرد موسم کیا کبھی اسطرح بھی ہوا ہے کہ سردی اور گرمی اکٹھی ہوٸ یا تری اور خشکی اکٹھی ہوٸ نہیں ہوتی نا تری سردی کے ساتھ یا گرمی کے ساتھ ہوتی ہے گرمی خشکی کے ساتھ یا تری کے ساتھ ہوتی ہے۔
اب موسموں کو غور سے مشاہدہ کریں تو قانون فطرت سمجھا جا سکتا ہے کہ برسات ہوتی ہے تو تری کے بڑھنے سے سردی آجاتی ہے پھر سردی کے ساتھ خشکی بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔ سرد خشک موسم عروج پر ہو جاتا ہے تو خشکی کے ساتھ گرمی پیدا ہو جاتی ہے پھر گرمی رکی رہتی ہے اور خشکی میں برسات ہوتی ہے تو گرم تر موسم شروع ہو جاتا ہے پھر تری رکی رہتی ہے اور گرمی ختم ہو جاتی ہے اور تر سرد موسم آ جاتا ہے یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
مزاج کا بدلنا
اسی طرح انسان کے اندر بھی موسم تبدیل ہوتے رہتے ہیں یعنی مزاج بدلتے رہتے ہیں تر سرد پھر سرد خشک پھر خشک گرم پھر گرم خشک پھر گرم تر پھر تر گرم یہ ہی چھ مزاج ہوتے ہیں اور تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
جب مزاج تبدیل ہوتے رہتے ہیں تو انسان تندرست رہتا ہے۔
جب یہ مزاج غذاٸی بداحتیاطی کی وجہ سے رک جاتے ہیں تو بیماری پیدا ہو جاتی ہے، پھر موسم سے مثال لیتے ہیں کہ جب بہت عرصہ تک بارش نہیں ہوتی تو قحط سالی پڑ جاتی ہے بیماریوں کی وبایٸں پھوٹ پڑتی ہیں جانور اور انسان کثیر تعداد میں مرنے لگتے ہیں جب بارشیں بہت زیادہ ہونے لگیں تو سیلاب آ جاتے ہیں پھوڑے پھنسیاں ھیضہ وغیرہ جیسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں ۔
جب سرد خشک موسم رک جاۓ تو بواسیر جوڑوں کا درد ھارٹ بلاکیج کے مریض عام نظر آتے ہیں
جب گرمی خشکی رک جاۓ تو سن سٹوک یرقان اور شدید اختلاج قلب کے مریض زیادہ نظر آتے ہیں۔
اب میں شاید واضح کرچکا ہوں کہ مزاج کتنے ہوتے ہیں۔
مزاج مستقل ایک ہی نہیں رہتا مزاج بدلتے رہتے ہیں۔
ایک مزاج میں موجود بیماریاں اگلے مزاج میں جاکر ٹھیک ہو جاتی ہیں کیوں کہ مستقل ایک ہی مزاج میں رہنے سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔
آج کا مضمون ختم کرنے سے پہلے میں قدرتی مزاج بھی بتاتا چلوں کہ
بچوں کا مزاج بنیادی طور پر اور قدرتی طور پر اعصابی یعنی بلغمی ہوتا ہے۔
جوان مردوں کا بنیادی اور قدرتی طور پر مزاج خشک گرم مزاج ہوتا ہے اور
بوڑھے مردوں عورتوں کا مزاج قدرتی طور پر سرد خشک ہوتا ہے جبکہ جوان عورتوں کا قدرتی مزاج گرم تر ہوتا ہے۔
قانون مفرد اعضاء اور شوگر کی 3 بڑی اقسام اور ان کا قدرتی علاج