اردو لطیفہ: کتے اور بھوربن – ایک مزاحیہ اور عبرت انگیز کہانی

75 / 100 SEO Score

 

 اردو لطیفہ: کتے اور بھوربن

اردو لطیفہ - سیٹھ بھولا بھالا اور کتے کا قصہ

ایک دن میں سیٹھ بھولا بھالا کی انکم ٹیکس ریٹرن دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک عجیب نکتے پر پڑی — لکھا تھا: کتوں کا کھانا 75,000 روپے۔ تین دن کی تحقیق کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ سیٹھ جی کی ٹیکس چوری پکڑ لی گئی ہے۔ میں نے سوچا، اب یہ ٹیکس چور نہیں بچ سکتا۔

اگلے دن میں نے سیٹھ کو دفتر میں بلایا اور ٹیکس، ایمانداری، اور قومی خدمت پر ایک لمبا لیکچر دے مارا۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے، نہ کچھ کہا نہ انکار کیا۔ میں نے ان سے کتوں کے کھانے کے اخراجات پر بات کی لیکن ان کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا۔

آخر میں میں خاموش ہوگیا۔ سیٹھ مسکرائے اور بولے: صاحب، آپ افسر ہیں، حکم کریں ہم کیا کر سکتے ہیں آپ کے لیے؟ میں نے معنی خیز لہجے میں کہا: کیا آپ ایک ذمہ دار انکم ٹیکس آفیسر کو رشوت کی پیش کش کر رہے ہیں؟

سیٹھ فوراً بولے: ارے نہیں صاحب! رشوت نہیں، بس ایک بزنس ڈیل سمجھ لیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا: کیا مطلب؟

سیٹھ مسکرائے اور بولے: اس سال بھابی اور بچوں کے لیے بھوربن مری کا سیر و تفریح پیکیج میری طرف سے۔ تمام خرچ میرا ہوگا، گاڑی سمیت!

تھوڑی بحث کے بعد میں نے یہ “ڈیل” قبول کر لی۔ ایک سال بعد جب سیٹھ کی نئی ریٹرن میرے سامنے آئی تو اس میں لکھا تھا:

کتوں کو بھوربن کی سیر کروائی — خرچ: ایک لاکھ روپے!

میں کرسی پر بیٹھا پسینے میں شرابور سوچتا رہ گیا کہ آخر چالاک کون نکلا — میں یا سیٹھ بھولا بھالا؟

 


📚 مزید دلچسپ اردو لطیفے یہاں پڑھیں — ہنسی، مزاح اور روزمرہ زندگی کے طنز و مزاح سے بھرپور کہانیاں۔

 

1 thought on “اردو لطیفہ: کتے اور بھوربن – ایک مزاحیہ اور عبرت انگیز کہانی”

Leave a Reply