خلا بازوں کی عقل داڑھ کیوں نکالی جاتی ہے؟
خلا میں جانے سے پہلے خلا بازوں کی عقل داڑھ کیوں نکال دی جاتی ہے؟
خلائی سفر میں جسمانی صحت کے معمولی خدشات کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔
خلائی سفر جتنا دلچسپ دکھائی دیتا ہے، اتنا ہی نازک اور خطرات سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔ خلا میں موجود خلائی اسٹیشن پر نہ کوئی ایمرجنسی وارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی فوری سرجری کی سہولت، اسی لیے خلا بازوں کو زمین سے روانگی سے پہلے سخت طبی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ انہی احتیاطی اقدامات میں ایک عقل داڑھ اور بعض اوقات اپنڈکس کو پہلے ہی نکلوانا بھی شامل ہے، چاہے وہ بظاہر کوئی مسئلہ پیدا نہ کر رہے ہوں۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض اعضاء اور دانت ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک ٹھیک رہتے ہیں مگر اچانک شدید مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ عقل داڑھ انہی میں سے ایک ہے۔
خوراک کے ذرات پھنسنے، انفیکشن اور سوزش کے امکانات کے باعث یہ دانت کسی بھی وقت درد یا بخار کی وجہ بن سکتے ہیں، اور خلا میں اس طرح کی صورتحال پورے مشن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ صفر کششِ ثقل کے ماحول میں انسانی جسم کا ردِعمل زمین سے مختلف ہو جاتا ہے۔ چہرے پر سوجن، مدافعتی نظام کی کمزوری اور ہڈیوں کی طاقت میں کمی جیسے عوامل چھوٹے مسائل کو بھی سنگین بنا سکتے ہیں۔ ایسے میں دانت یا پیٹ سے متعلق تکالیف کی شدت بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔
خلائی طب کا اصول یہ ہے کہ علاج کے انتظار کے بجائے خطرے کو پہلے ہی ختم کر دیا جائے۔ خلا میں نہ مکمل سرجری ممکن ہے، نہ اینستھیزیا اور نہ ہی طویل نگہداشت۔ اس لیے مشن سے پہلے مکمل طبی جانچ کے بعد وہ تمام عوامل ختم کر دیے جاتے ہیں جو بعد میں مسئلہ بن سکتے ہوں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی خلا باز کو دورانِ مشن شدید درد یا انفیکشن ہو جائے تو اس سے نہ صرف اس کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ پوری ٹیم اور مشن کی کامیابی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اگر کوئی بڑا طبی مسئلہ پیدا ہو جائے تو زمین پر واپسی میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں، جو مریض کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یہ سخت فیصلے انفرادی اور اجتماعی سلامتی کے لیے کیے جاتے ہیں۔
خلائی سفر میں جسمانی صحت کے معمولی خدشات کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ عقل داڑھ نکلوانا یا دیگر احتیاطی اقدامات اسی غیر معمولی احتیاط کا حصہ ہیں، تاکہ خلا میں انسان صرف اپنے مشن پر توجہ دے سکے، کسی اچانک بیماری پر نہیں۔
خلا بازوں کی عقل داڑھ اور خلائی مشنز کی حساسیت
خلا بازوں کی عقل داڑھ کو نکالنے کا فیصلہ دراصل خلائی مشنز کی انتہائی حساس نوعیت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ خلا میں ہر خلا باز صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے مشن کی کامیابی کا ستون ہوتا ہے۔ اگر ایک خلا باز بھی شدید درد یا انفیکشن میں مبتلا ہو جائے تو اس کی کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے، جس سے سائنسی تجربات، اسٹیشن کی دیکھ بھال اور ٹیم کی مجموعی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے خلا بازوں کی عقل داڑھ جیسے ممکنہ مسائل کو پہلے ہی ختم کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
خلا بازوں کی عقل داڑھ اور زیرو گریوٹی میں جسمانی تبدیلیاں
زیرو گریوٹی کے ماحول میں انسانی جسم کے مائع سر کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے چہرہ، مسوڑھے اور ناک سوج سکتے ہیں۔ اس حالت میں اگر خلا بازوں کی عقل داڑھ موجود ہو تو اس کے اردگرد انفیکشن اور سوزش کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ زمین پر جو مسئلہ معمولی ہوتا ہے، وہ خلا میں شدید بن سکتا ہے کیونکہ جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔
خلا بازوں کی عقل داڑھ اور خلائی طب کا اصول
خلائی طب میں ایک بنیادی اصول پایا جاتا ہے جسے “Prevent before it happens” کہا جاتا ہے، یعنی مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے ہی اسے ختم کر دینا۔ خلا بازوں کی عقل داڑھ اسی اصول کے تحت نکالی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ دانت زمین پر برسوں تک ٹھیک رہ سکتا ہے، مگر خلا میں اس کے اچانک خراب ہونے کا خطرہ ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلا بازوں کے دانتوں، مسوڑھوں اور جبڑوں کا مکمل ایکسرے کیا جاتا ہے اور اگر کسی جگہ معمولی سا بھی خدشہ ہو تو فوری علاج یا اخراج کر دیا جاتا ہے۔
خلا بازوں کی عقل داڑھ اور طویل خلائی سفر
مستقبل میں مریخ اور دیگر سیاروں کے طویل مشنز کے لیے خلا بازوں کو کئی مہینے یا سال خلا میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں زمین پر فوری واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ اگر اس دوران خلا بازوں کی عقل داڑھ میں انفیکشن ہو جائے تو وہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جدید خلائی ایجنسیاں طبی احتیاط کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔
NASA اور دیگر ادارے مسلسل اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ خلا میں انسانی صحت کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔ مزید معلومات کے لیے آپ NASA کی آفیشل ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں:
NASA Official Website
آخر میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ خلا بازوں کی عقل داڑھ نکالنا ایک معمولی عمل نہیں بلکہ ایک سائنسی، طبی اور حفاظتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد صرف خلا باز کی صحت ہی نہیں بلکہ پورے خلائی مشن کی کامیابی اور انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنانا بھی ہے۔